مظفر وارثی کا پیدائشی نام محمد مظفر الدین احمد صدیقی تھا۔ وہ برطانوی ہندوستان کے شہر میرٹھ (یو۔ پی) میں صوفی شرف الدین احمدچشتی قادری سہروردی کے ہاں ۲۳دسمبر ۱۹۳۳ء میں پیدا ہوئے۔ احسان دانش نے کہاتھاکہ اگلازمانہ مظفر وارثی کاہے۔ آپ کااپناایک جداگانہ شعری نظام ہے جوآپ کو دیگر شعراسے ممتاز کرتا ہے۔ ۲۰سے زائد شائع شدہ کتابوں میں برف کی ناؤ، بابِ حرم، لہجہ نورِ ازل ،الحمد ،حصار لہو کر ہریالی ،ستاروں کی آبجو، کعبہِ عشق، کھلے دریچے بند ہوا، دل سے درِ نبی تک ،ظلم نہ سہنا، کمند شامل ہیں ۔بہترین نعت گو کا ایوارڈ پاکستان ٹیلی وژن سے ۱۹۸۰ء میں حاصل کیا۔آپ کو پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا گیا ۔ آپ اردو نعت کا انتہائی معتبر نام ہیں تاہم آپ نے ہر صنف شعرغزل، نظم، حمد، نعت وسلام، گیت، قطعات اور ہائیکووغیرہ میں طبع آزمائی کی ہے۔ آپ ۲۸ جنوری ۲۰۱۱ کو لاہور پاکستان میں فوت ہوئے۔